سید غلام رضا رضوی
دریافت قالب های زیبای رایگان در ثامن تم متن مورد نظر متن مورد نظر
كشف حجاب از چشم عمر بن خطاب
نویسنده SAYED GULAM RAZA RIZVI BALRAMPORI در 2015/4/8 |
كشف حجاب از چشم عمر بن خطاب جابر بن عبدالله انصارى گفت : ما نزد امیرالمؤ منین (ع ) در مسجد رسول خدا(ص ) نشسته بودیم كه عمر بن خطاب وارد شد. هنگامى كه نشست ، رو به جماعت كرد و گفت : همانا ما سرّى (حرف خصوصى ) داریم ، مجلس را خلوت كنید. خداوند شما را رحمت كند. چهره هاى ما (از سخن او) برافروخته شد و به او گفتیم : رسول خدا (ص ) با ما این گونه رفتار نمى كرد و در موارد اسرارش به ما اعتماد مى كرد. تو را چه مى شود، از وقتى كه متولى امور مسلمین شده اى ، زیر پوشش نقاب رسول خدا (ص ) خودت را پنهان كرده اى ؟ گفت : مردم اسرارى دارند كه آشكار نمودن آن در میان سایرین ممكن نیست . پس ما غضبناك برخاستیم (و به كنارى رفتیم ) و او مدتى طولانى با امیرالمؤ منین (ع ) خلوت كرد. بعد هر دو از جایشان برخاستند و باهم بر منبر رسول خدا (ص ) بالا رفتند.
ضربت خوردن حضرت امام علی(ع) و خلیفه دوم عمر بن خطاب
نویسنده SAYED GULAM RAZA RIZVI BALRAMPORI در 2015/4/8 |
ضربت خوردن حضرت امام علی(ع) و خلیفه دوم عمر بن خطاب در تاریخ آمده است :زمانی که ابن ملجم مرادی ( لعنت الله علیه ) با شمشیر بر فَرق مبارک امام علی علیه السلام زد ، ایشان فرمودند :" فزت و رب الکعبه(1) " (قسم به خدای کعبه که رستگار شدم) و این در حالی است که وقتی جناب عمر بن خطاب ، بوسیله ابولولوء مورد هجوم قرار گرفت و مضروب شد گفت :"ادرکوا الکلب ، فقد قتلنی " یا " دونکم الکلب ، فقد قتلنی(2) "(سگ را بگیرید ؛ مرا کشت !) تفاوت را ببینید : امام علی علیه السلام:"به خدا کعبه که رستگار شدم ! " عمر بن خطاب:"سگ را بگیرید ، مرا کشت ! " پی نوشت: (1)-الاستیعاب - ابن عبدالبر - ج 3 ص 1125 شرح نهج البلاغه - ابن ابی الحدید شافعی - ج 9 ص 207 تاریخ مدینه دمشق - ابن عساکر - ج 42 ص 561 (2)-نیل الاوطار - شوکانی - ج 6 ص 160 السنن الکبری - بیهقی - ج 3 ص 113 فتح الباری - ابن حجر عسقلانی - ج 7 ص
اعتراف عمر به فرار از جنگ
نویسنده SAYED GULAM RAZA RIZVI BALRAMPORI در 2015/4/8 |
آورده‌اند در دوران خلافتِ عمر، زنى مراجعه کرد و از بُردهاى بیت‌المال خواست که نزد وى بود. همزمان، یکى از دختران عمر نیز وارد شد و از بُردهاى بیت‌المال خواست. عمر به درخواست آن زن جواب مثبت داد؛ ولى خواسته دختر خویش را رد کرد. اطرافیان عمر تعجّب و اعتراض کردند که دختر تو نیز در این بیت المال داراى سهم است. چرا او را مأیوس کردى؟ عمر به اعتراض آنها چنین پاسخ داد: «إنَّ أبا هذِهِ ثَبَتَ یَوْمَ اُُحُد وأبا هذِهِ فَرَّ یَومَ اُحُد وَلَمْ یَثْبُتْ؛[1] [آن زن بر دختر من ترجیح و امتیاز دارد؛] زیرا پدر او در جنگ اُحد فرار نکرد و استقامت ورزید؛ ولى پدر دختر من فرار کرد و پایدار نماند.» پی نوشت: ========= [1]. شرح نهج البلاغه، ابن ابى الحدید، ج15، ص32.
عمر ابن خطاب:از جنگ فرار کردم و مثل بزکوهی از کوه بالا رفتم
نویسنده SAYED GULAM RAZA RIZVI BALRAMPORI در 2015/4/8 |
عمر ابن خطاب:از جنگ فرار کردم و مثل بزکوهی از کوه بالا رفتم سیوطی در تفسیر الدرالمنثور , جلد 4, ذیل آیات 154-155 سوره آل عمران روایت میکند: عمر، روز جمعه، سوره آل عمران را خواند… وقتی به این آیه رسید، « کسانی از شما که در روز روبه رو شدن دو جمعیت با یکدیگر ( در جنگ احد )، فرار کردند، شیطان آنها را بر اثر بعضی از گناهانی که مرتکب شده بودند، به لغزش انداخت…» گفت: وقتی روز احد، مشرکان را شکست دادیم، من فرار کردم تا این که از کوه بالا رفتم و همانا خود را دیدم که همانند بز کوهی، از کوه بالا میدوم!!! و مردم ندا می دادند که محمد ( صلی الله علیه وآله وسلم ) کشته شد. من گفتم: هر کس را ببینم که بگوید محمد ( صلی الله علیه وآله وسلم ) کشته شد او را میکشم!! بعد ما روی کوه جمع شدیم، پس این آیه نازل شد. « کسانی از شما که در روز روبرو شدن دو جمعیت با یکدیگر ( در جنگ احد )، فرار کردند، شیطان آنها را بر اثر بعضی از گناهانی که مرتکب شده بودند، به لغزش انداخت…».
آرزوی عجیب عمر و ابوبکر
نویسنده SAYED GULAM RAZA RIZVI BALRAMPORI در 2015/4/8 |
آرزوی عجیب عمر و ابوبکر هناد بن سرى متوفای243 هـ كه از راویان بخاری، مسلم و بقیه صحاح سته اهل سنت است، در كتاب الزهد به نقل از ضحاك مى‌نویسد: عن الضحاك قال مر أبو بكر بطیر واقع على شجرة فقال طوبى لك یا طیر تقع علی الشجر وتأكل الثمر ثم تطیر ولیس علیك حساب ولا عذاب یالیتنی كنت مثلك والله لوددت أن الله خلقنی شجرة إلى جانب الطریق فمر بی بعیر فأخذنی فأدخلنی فاه فلاكنی ثم ازدردنی ثم أخرجنی بعرا ولم أك بشرا. قال وقال عمر یا لیتنی كنت كبش أهلی سمنونی ما بدا لهم حتى إذا كنت أسمن ما أكون زارهم بعض ما یحبون فجعلوا بعضی شواء وبعضی قدیدا ثم أكلونی فأخرجونی عذرة ولم أك بشرا قال وقال أبو الدرادء یا لیتنی كنت شجرة تعضد ولم أك بشرا.
جوانوں قوم کے پھر دین ہے ہر آن خطرے میں
نویسنده SAYED GULAM RAZA RIZVI BALRAMPORI در 2015/2/2 |

جوانوں قوم کے پھر دین ہے ہر آن  خطرے میں

ہماری زندگی وبندگی ایمان خطرے میں

ہماری آستیں کے سانپ ہیں پھپکارتے ہمکو

یہی بس سوچ کر ہے وقت کا شیطان خطرے میں

کہیں پے نظر آتش اور کہیں تفسیر مرضی سے

انھیں دو دہشتوں کے بیچ ہے قرآن خطرے میں

محافظ ولایت علامہ میر حامد حسین موسوی
نویسنده SAYED GULAM RAZA RIZVI BALRAMPORI در 2015/1/30 |

امام صادقین علیہما السلام کے قیام کے بعد شیعوں کے آداب و اطوار،عقائد و سنن،ثقافت و رسوم کو ایک نئی زندگی ملی،دین اسلام اور فقہ جعفری کی یہ شان و شوکت کچھ منافق و فاسق افراد سے دیکھی نہ گئی اسی لئے اسی وقت سے اسکی تخیریب اور حقانیت ائمہ کے انکار پر تل گئے،افکار شیعت کی روز بروز رشد و نمو کو روکنے کی غرض سے بطلان عقائد شیعت،انکار ولایت امیر المومنینؑ اور فقہ جعفری کو بے اساس ثابت کرنے کے لئے مختلف کتابوں کی تالیف شروع کی۔

 

عائشہ کس طرح وفات پاگئیں؟
نویسنده SAYED GULAM RAZA RIZVI BALRAMPORI در 2014/12/14 |
عائشہ کس طرح وفات پاگئیں؟
سوال
شیعہ وسنی منابع کے مطابق عائشہ نے کس طرح وفات پائی ہے؟
ایک مختصر
عائشہ کی وفات کی کیفیت کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ منابع اہل سنت ان کی موت کو فطری جانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ  سنہ۵۸  ھ میں عائشہ نے وفات پائی اور ابوہریرہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ لیکن اس سے پہلے لکھا ہے کہ ابوہریرہ بھی اسی سال اس دنیا سے چلے گئے۔[1]  عائشہ کو قبرستان بقیع میں سپرد خاک کیا گیا۔
اللهم لاتمتني حتى تريني علياً (ع)
نویسنده SAYED GULAM RAZA RIZVI BALRAMPORI در 2014/12/14 |

( اللهم لاتمتني حتى تريني علياً (ع)) عدد الروايات : ( 6 ) أحمد بن حنبل - فضائل الصحابة - ومن فضائل علي (ع) 1003 - حدثنا : أبو مسلم إبراهيم بن عبد الله بن مسلم البصري ، قراءة عليه يوم الإثنين في شهر ربيع الآخر من سنة ثمان وثمانين ومائتين ، قثنا : أبو عاصم وهو الضحاك بن مخلد ، عن أبي الجراح قال : ، حدثني : جابر بن صبح ، عن أم شراحيل ، عن أم عطية ، أن رسول الله (ص) بعث علياً في سرية ، فرأيته رافعا يديه وهو يقول : اللهم لا تمتني حتى تريني علياً.

فتوؤں میں اختلاف کیوں؟
نویسنده SAYED GULAM RAZA RIZVI BALRAMPORI در 2014/11/16 |
 

مقدمہ

خالق کائنات نے دنیا میں کسی چیز کو بے فائدہ پیدا نہیں کیا بلکہ ہر چیز کو ایک مقصد اور ایک ہدف کے پیش نظر خلقت وجودسے آراستہ فرمایا ہے دنیا کی تمام موجودات میں انسان کو اشرف مخلوق بنایا اور اسکی مقصد کی طرف یوں اشارہ فرمایا ’وماخلقت ُالجن و الانس الا لیعبدون‘‘ہم نے جن و انس کو اپنی عبادت کے لئے خلق فرمایا ہے (ذاریات۔56)

اس آیۂ شریفہ میں لا تعلیل کے لئے ہے جو غرض اور مقصد خلقت کو بیان کر رہا ہے یعنی خدا کی خلقت کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان اسکی  عبادت کرے ۔

راوی بیان کرتا ہے یہ غم کا ماجرا
نویسنده SAYED GULAM RAZA RIZVI BALRAMPORI در 2014/11/10 |
 

راوی بیان کرتا ہے یہ غم کا ماجرا

 

جب ظالموں نے شہ کو پریشان کر دیا

 

جب فوج حسینی کا علمدار مر گیا

 

اہل حرم میں شور تھا ہے و امصیتا

 

بھائی بھتیجے آنکھوں کے پیارے ہوئے شہید

 

سب فاطمہ علی کے دلارے ہوئے شہید

 

 

تھی شام کے بازاروں میں صدا پتھر مارو اسکو زیادہ
نویسنده SAYED GULAM RAZA RIZVI BALRAMPORI در 2014/11/10 |

تھی شام کے بازاروں میں صدا پتھر مارو اسکو زیادہ

سجاد ہے باغی کا بیٹا  سجاد ہے باغی کا بیٹا

کیوں مجھکو ستاتے ہو کیوں مجھکو رلاتے ہو

 

 

مجھے کربلا لے چلو
نویسنده SAYED GULAM RAZA RIZVI BALRAMPORI در 2014/11/10 |

مجھے کربلا لے چلو

ہے زندان میں بابا کتنا اندھیرا مجھے کربلا لے چلو

نہیں تو میں مر جاؤں گی گھٹ کے بابا مجھے کربلا لے چلو

سنا تھا یتیموں کو اے میرے بابا

هر اک شخص ديتا هے آکر دلاسا

يتيمي  میں مجھکو طمانچه لگا مجھے کربلا لے چلو

 

 

تپتی زمیں کو خون سے سینچا ہے اے حسینؑ
نویسنده SAYED GULAM RAZA RIZVI BALRAMPORI در 2014/11/10 |
 

تپتی زمیں کو خون سے سینچا ہے اے حسینؑ

 

توحید کی بقا تیرا سجدہ ہے اےحسینؑ

 

کرب وبلا کو تو ے معلیٰ بنا دیا

 

اپنے لہو سے سینچ کے کعبہ بنا دیا

 

 

 

سلام چاند نکلا ہے محرم کا مگر یا زہرا
نویسنده SAYED GULAM RAZA RIZVI BALRAMPORI در 2014/11/10 |
 

چاند نکلا ہے محرم کا مگر یا زہرا

کھو گیا زینب کبریٰ کا قمر یا زہرا

کھا کے سینے پے سناں بیٹے کا رن میں گرنا

کر گئی خم تیرے سرور کی کمر یا زہرا

زندگی میں ہوا پامال بدن قاسم کا

لگ گئی اسکو لعینوں کی نظر یا زہرا

 

 

جناب سکینہ کا بیان
نویسنده SAYED GULAM RAZA RIZVI BALRAMPORI در 2014/11/10 |

ایک بار اور مجھے گود میں لے لو بابا

نیند آتی نہیں سینے پے سلا لو بابا

دم گھٹا جاتا ہے زنداں کے اندھیروں میں میرا

جینا دشوار ہے زنداں کے اندھیروں میں میرا

آکے زنداں کے اندھیروں سے نکالوں بابا

 

 

یاد علی اکبر میں حضرت صغریٰ کا نوحہ
نویسنده SAYED GULAM RAZA RIZVI BALRAMPORI در 2014/11/10 |

 

سب گل مرجھائے جاتے ہیں اکبر میرا کب آئے گا

میں کیسے بناؤں گی سہرا اکبر میرا کب آئے گا

ارمان بہت تھا پھلوں کا ہاتھوں سے سہرا بناوں گی

اور بھر میں اپنے ہاتھوں سے وہ سہرا تمھیں پہناؤں گی

بچپن سے ہے یہ تمنا اکبر میرا کب آئے گا

 

کربلا کی فریاد
نویسنده SAYED GULAM RAZA RIZVI BALRAMPORI در 2014/11/10 |

رو کے کہتی ہے کرب وبلا میرے وارث کو رب بھیج دے

زخم دل میرا بھر جائے گا میرے وارث کو رب بھیج دے

میں نے دیکھی نہیں ہے خوشی آج تک

لاکھوں ظلم و ستم ہیں ہوئے اب تلک شاد ہو جائے گا میرا سینہ میرے وارث نو رب  بھیج دے


برچسب ها : کربلا کی فریاد
اسی کے ابرو کے ہی تصدق چراغ وحدت میں روشنی ہے
نویسنده SAYED GULAM RAZA RIZVI BALRAMPORI در 2014/5/30 |
 

علی علی ہے علی ولی ہے علی ہی نبیوں کی زندگی ہے

 

سمجھ نہ پائے یہ ملا حافظ علی ہی اسرار بندگی ہے

 

جہان روشن علی کے دم سے ،ہے دین کامل علی کے دم سے

 

علی ہی اسرارکبریا ہے علی ہی مومن کی بندگی ہے

اجتھاد اور تقلید
نویسنده SAYED GULAM RAZA RIZVI BALRAMPORI در 2014/5/30 |


مصنف: شھید مرتضی مطھری
وما کان المومنون لینفردا کافة فلو لانفر من کل فرقة منھم طائفة لیفقھوا فے الدین ولینذروا قومھم اذارجعوا الیھم لعلھم یحذرون
"تمام مومنوں کے لئے کوچ کرنا تو ممکن نہیں ہے مگر ایسا کیوں نہیں کرتے کہ ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلے تاکہ دین کا علم حاصل کرے اور واپس جا کر اپنے علاقے کے باشندوں کو خبردار کرے‘ شاید وہ اس طرح ڈرنے لگیں۔"(توبہ‘ ۱۲۲)

اجتہاد کی تعریف

روزہ کے فقیہی مسائل
نویسنده SAYED GULAM RAZA RIZVI BALRAMPORI در 2014/5/30 |

روزہ کی تعر:یف:

واجبات میں سے ایک واجب اور انسانوں کی خود سازی کے لئے اسلام کی ایک سالانہ عبادت روزہ ہے ۔روزہ یہ ہے کہ فرمان خدا وندی کی اطاعت کے لئے انسان آذان صبح ست لے کر مغرب تک بعض چیزوں سے جن کی تفصیل آیندہ آئے گی اجتناب کرے ،روزہ کے احکام سے آگاہی کے لئے ضروری ہے کہ پہلے اس کی اقسام کو پہچانیں ،

روزہ کی چار قسمیں ہیں :

۱۔واجب ۲۔حرام ۳۔مستحب ۴۔مکروہ ۔

واجب روزوں میں ماہ مبارک رمضان کے روزے ،قضاروزے ،کفارے کے روزے وہ روزے جو نذر وعہد کی وجہ سے واجب ہوتے ہیں اور باب کے قضاءروزے جو برے بیتے پر واجب ہیں ۔

ماہ رمضان المبارک کے فضائل
نویسنده SAYED GULAM RAZA RIZVI BALRAMPORI در 2014/5/30 |

ماہ رمضان المبارک واقعاً مبارک مہینہ ہے برکتوںکا مہینہ ہے ،رحمتوں کا مہینہ ہے۔اس مہینہ کی فضیلت اور عظمت کو کوئی درک نہیں کرسکتا، نبی اکرم فرماتے: ہیں کہ اگر بندگان خدا کو ماہ رمضان کی فضیلت کا علم ہو جاتا تو یہ تمنا کرتے کہ پورے سال رمضان ہو یہ وہ مہینہ ہے جس میں ہمارے دوسرے امام حسن علیه السلام کی و لا د ت با سعادت بھی ہے اور اس مہینے میں شب قدر بھی ہے، جو ہزار مہینوں سے افضل ہے، اور اس مہینے میں خداوند عالم نے قرآن بھی نازل کیا ہے، خداوند عالم نے اس مہینہ کی توصیف قرآن کریم میں اس طرح کی ہے ارشاد ہوتا ہے۔

اعمال شب قدر
نویسنده SAYED GULAM RAZA RIZVI BALRAMPORI در 2014/5/30 |

شب قدر کی فضیلت کے لئے اتنا کہناکافی ہے کہ یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے اس شب میں انسان کی تقدیر لکھی جاتی ہے اور جو انسان اس سے با خبر ہو وہ زیادہ ہو شیاری سے اس قیمتی وقت سے استفادہ کرے گا ۔لہٰذا شب قدر کے بہترین اعمال میں سے ایک عمل یہی ہے کہ انسان اس فرصت کو غنیمت سمجھے اورجتنا ہو سکے توبہ کریں ۔اوریہ فرصت انسان کو ہر بار نہیں ملتی ہے ۔ یہ بات بھی واضح رہے کہ شب قدر ولایت اور امامت کی شب ہے اور امامت و ولایت کی حقیقت فاطمہ زہرا (س) کی ذات گرامی ہے ۔

شب قدر کے اعمال دو قسم کے ہیں ۔

     اعمال مشترکہ اور اعمال مخصوصہ ۔ اعمال مشترکہ وہ ہیں جو تینوں شب قدر میں بجا لائے جاتے ہیں اور اعمال مخصوصہ وہ ہیں جو ہر ایک رات کے ساتھ مخصوص ہیں۔

اعمال مشترکہ میں چند امور ہیں:

برچسب ها : اعمال شب قدر
نویسنده SAYED GULAM RAZA RIZVI BALRAMPORI در 2014/5/25 |
AxGiG,عکس گیگ پایگاه آپلود عکس ویژه وبلاگنویسان

محو ر تبلیغ
نویسنده SAYED GULAM RAZA RIZVI BALRAMPORI در 2014/5/25 |
خدا وند متعال قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ(لمائدة آیه : 67)

اے میرے رسول اس حکم کو پہنچا دو جو میں آپ پر نازل کر چکا ہوں اگر اس ھکم کو نہیں پہونچایا تو گویا کار رسالت انجام ہی نہیں دیا

اگر اس آیت میں غور کریں تو یہ آیت تبلیغ کے محور اور اسکے حدود و فرئض کو بیان کرتی ہے

1۔اس آیت میں تبلیغ کی ذمہ داری رسول کو دی گئی ہے یعنی ابلاغ اتنا اہم مرحلہ ہے کہ جو ہر کس و ماکس کے بس کی بات نہیں ہے بلکہ اس کام کے لئے یا نبی ہو یا امام یا امام کا خاص یا عام جانشین ہو ۔

چونکہ ہر مسئلہ من وعن مخاطب تک پہونچنے کے لئے امین کی شرط ہے لہذا وہ افراد جو دولت اور مال کی چاہت میں اپنے عزت نفس کو بیچ دیتے ہیں وہ اس کام کو نہیں کر سکتے ہیں

برچسب ها : محو ر تبلیغ
علماء
نویسنده SAYED GULAM RAZA RIZVI BALRAMPORI در 2014/5/3 |

 

پیشانیٔ لمعہ واصول سے عرق چینی کرنے والے، حاشیہ اور اظفار کی بکھری زلفیں سنوارنے والے، سیوطی اور مغنی الادب کی باہوں میں کھیلنے والے،مہ خانہ مطول ومختصرکے بادہ کش خواہشات دنیا کے نہتھے شہسوار،خزینۂ شیعت کے در آبدار،تاریکی میں نور، ضلالت وگمراہی میں ہدایت کا روشن چراغ، ہمارے وجود کے ڈور میں اصول و فروع کے دانے پروکر تسبیح زندگی کو سنوارنے والے علماء کے اخلاق وکردار  رفتارو گفتار، صورت وسیرت کو قلمبند کرنا ان کے صفات وکمالات کا قرطاس کے چند صفحات پر تصویر کھینچنا بہت دشوار مرحلہ ہے۔

غربت کی انتہا ہے زہرا تیری لحد پر
نویسنده SAYED GULAM RAZA RIZVI BALRAMPORI در 2014/5/3 |

جب بھی کسی زندہ دل مسلمان کے سامنے مظلومیت کا ذکر ہوتا ہے تو ذہن کے پردے پر یکا یک کائنات کی مظلومہ حضرت زہرا سلام اللہ علیھا کی مظلومیت ابھر کر آتی ہےجب بھی نگاہیں مسجد نبوی کی در دیوار پر پڑتی ہے تو آنکھوں کے سامنے ایک عجیب سماں دیکھائی دیتا ہے جسے دیکھ کر بے ساختہ آنکھوں  سے اشکوں کا دریا رواں ہو جاتا ہے جسے دیکھ کر آنکھیں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتی ہیں ۔


چادر سیدہ (س) زمانہ جان لے میں سیدہ کی چادر ہوں
نویسنده SAYED GULAM RAZA RIZVI BALRAMPORI در 2014/5/3 |

زمانہجان لے میں سیدہ کی چادر ہوں

میں منزلت میں ولی و وصی سے بہتر ہوں

نہیں میں کرتی ہوں بس یوں ہی افتخار سنو

ہے رتبہ کیا میرا جاکر بتول سے پوچھو

نبی ولی و وصی اور رسول سے پوچھو

جو سایہ بن کے یہ بادل سروں ہے چھایا ہے

ردائے فاطمہ زہرا کا ایک کونہ ہے

صحیفۂ مصطفی سیدہ فاطمہ زہرا(ص)
نویسنده SAYED GULAM RAZA RIZVI BALRAMPORI در 2014/5/3 |

ٍرمز و راز الہی کا خزانہ زہرا 

دل مومن کی عقیدت کا مدینہ زہرا

سارے نبیوں کی زبانوں کا ترانہ زہرا

جسکو معبود تراشے وہ نگینہ زہرا

کل رسولوں کے صحیفوں کا تو عنوان بنی    

 دل مومن کے لئے بولتا قرآن بنی

فاطمہ ام ابیھا کیوں؟
نویسنده SAYED GULAM RAZA RIZVI BALRAMPORI در 2014/3/25 |

جب بھی کسی زندہ دل مسلمان کے سامنے مظلومیت کا ذکر ہوتا ہے تو ذہن کے پردے پر یکا یک کائنات کی مظلومہ حضرت زہرا سلام اللہ علیھا کی مظلومیت ابھر کر آتی ہےجب بھی نگاہیں مسجد نبوی کی در دیوار پر پڑتی ہے تو آنکھوں کے سامنے ایک عجیب سماں دیکھائی دیتا ہے جسے دیکھ کر بے ساختہ آنکھوں  سے اشکوں کا دریا رواں ہو جاتا ہے جسے دیکھ کر آنکھیں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتی ہیں ۔

طراحی و کدنویسی : ثامن تم
Template By : Samentheme.ir